Menu Close

پہلا دِن: یسوع خدا ہے / Jesus Is God

     

یسوع کون ہے؟

یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)

مصنف: ایبی وین سولکیما

مترجم: سنیل سموئیل

پہلا دِن: یسوع خدا ہے

ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔ یہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔ سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہواہے اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی (یوحنا 1:1-3)۔

مرقس کی انجیل کا آغاز یسوع کی زمینی خدمت سے ہوتا ہے۔لوقا کی انجیل کا آغاز یسوع کی پیدائش سے ہوتا ہے۔ یسوع کی پیدائش سے پہلے اُس کا نسب نامہ شامل کر کے متی اِس سے بھی پہلے کی بات کرتاہے۔لیکن یوحنا کی انجیل کے ابتدائی الفاظ کہانی کے بالکل آغاز کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ پیدائش 1:1 کی طرف لے جاتا ہے کہ خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا ۔پھر یوحنا ہمیں اس سے بھی پیچھے لے جاتا ہے یعنی ازل میں تاکہ واضح کرے کہ خدا بیٹا نہ صرف تخلیق کے وقت موجود تھا بلکہ وہ ہمیشہ سے موجود تھا یعنی وقت کے آغاز سے بھی پہلے۔

تثلیث کے دوسرے اقنوم کا وجود اُس وقت شروع نہیں ہوا جب وہ اِس زمین پر مجسم ہوا۔خدا بیٹا ہمیشہ سے خدا باپ اورخدا روح القدس کے ساتھ رفاقت میں شریک تھا۔بطور کلام، خدائے ثالوث کا ظاہری مکاشفہ، کائنات کی تخلیق میں سرگرم عمل تھا ۔سب چیزیں اُسی کے وسیلہ سے اور اُسی کے واسطے پیدا ہوئی ہیں۔وہ آج بھی تمام چیزوں کو سنبھالتا اور قائم رکھتا ہے (کلسیوں 13:1-18)۔ اپنی انجیل کے بالکل آغاز ہی سے یوحنا اپنا مرکزی نکتہ واضح کرتا ہے کہ یسوع خدا ہے۔

یوحنا کی انجیل کے پہلے قارئین درحقیقت پہلی صدی کے یہودی اور غیر قوم لوگ تھے جو گریکو رومن یعنی یونانی رومی ثقافت اور اُس کے گرد و نواح سے تعلق رکھتے تھے۔ یوحنا کے اِس مضبوط دعوے پر کہ یسوع خدا ہے اُن کے ردعمل مختلف تھے۔ایمان نہ لانے والے یہودیوں نے یوحنا کے اس دعوے کو کفر سمجھا۔کئی ایمان نہ لانے والے غیر قوم لوگ جو بہت سے دیوتاؤں کے تصور کے حامی تھے، انہوں نے اپنی فہرست میں یسوع کو محض ایک اور خدا کے طور پر شامل کر لیا۔لیکن جنہوں نے حقیقی ایمان پایا، چاہے یہودی ہوں یا غیر قوم ، وہ یسوع کی الوہیت کی سچائی پر ایمان لائے اور اُسے قبول کیا۔آج بھی اس بات کی حقیقت پر مختلف ردِعمل پائے جاتے ہیں کہ یسوع کون ہے ۔کچھ لوگ واضح طور پر انکار کرتے ہیں کہ یسوع کا کوئی وجودبھی ہے۔بعض اُسے محض ایک اچھا انسان سمجھتے ہیں جس نے برسوں پہلے زمین پر زندگی گذاری یا ایک عظیم اخلاقی استاد کے۔بعض لوگ یہ تسلیم تو کر سکتے ہیں کہ یسوع آسمان سے اُترا لیکن وہ اپنی زندگی میں اس کی تعلیم کے اختیار کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔لیکن یہ حوالہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ یسوع خدا سے کسی طور بھی کم ترنہیں ہے۔

شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ

١۔ آپ کیا ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع کون ہے؟

٢۔ یسوع کے بارے میں آپ کا ایمان اور عقیدہ اس بات پر کس طرح اثر انداز ہوگا کہ آپ یوحنا کی انجیل میں اُس کی تعلیمات کو کیسے سمجھیں اور اُن پر کیسے عمل کریں؟

اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت

١۔ یہ حوالہ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ہمارا خداوند یسوع انسانوں کی طرح وقت کی قید میں نہیں ہے۔ اُس کے ازلی و ابدی ہونے کے لیے اُس کی تمجید کریں۔

٢۔ آپ کس طرح اپنے ذہن میں خدا کی ہستی کو اس طرح محدود کر دیتے ہیں کہ آپ کا تصور اُس کے بارے میں بائبل مقدس میں بیان کردہ حقیقت سے کم تر ہے؟ یہ خدا کے بارے میں ایک گناہ آلود سوچ ہے۔ اِس گناہ کا اقرار کریں۔

٣۔ تخلیق کی مسلسل دیکھ بھال اور اُس پر اُس کی حکمرانی کے لئے اپنے آسمانی باپ کا شکرادا کریں۔

اردو زبان میں ترجمہ شدہ مضامین اور کتابیں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Show Buttons
Hide Buttons