گیارہواں دِن: قدوس خدا کی عبادت کا غلط طریقہ
مصنف: مائیک ویلتھاؤس
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
زبور 99
داؤد بادشاہ کے ذہن میں ایک شاندار خیال آیا۔ ایک زبردست خیال۔ شاید سب سے اچھا خیال! اپنی نئی سلطنت کو متحد کرنے کے لیے اس سے بہتر کیا ہو سکتا تھا کہ عہد کے صندوق کو یروشلیم لایا جائے تاکہ وہاں خدا کی عبادت کی جا سکے؟ تقریباً اِس سے پچاس سال پہلے فلستیوں نے صندوق کو اسرائیل سے چھین لیا تھا اس وقت جب عیلی سردار کاہن تھا۔ اگرچہ فلستیوں نے بعد میں صندوق کو اسرائیل کو واپس لوٹا دِیا لیکن یہ ابینداب کے گھر، قریت یعریم میں ہی پڑا رہا۔ ساؤل بادشاہ نے اپنی بادشاہت کے عرصہ کے دوران میں اسے نظرانداز کر دِیا تھا۔
١ تواریخ 13 میں بیان کیا گیا ہے کہ داؤد نے سرداروں، قوم کے رہنماؤں اور لوگوں سے مشورہ کیا کہ اگر وہ عہد کے صندوق کو جلوس کی شکل میں پھر یروشلیم لے آئیں تو کیسا رہے گا۔ سب نے اس کام پر بھرپور اتفاق کیا۔ یوں یہ منصوبہ ایک بڑے جشن میں تبدیل ہو گیا۔ لوگ راستے کے دونوں طرف کھڑے تھے اور داؤد اور سارا اسرائیل خدا کے آگے بڑے زور سے گیت گاتے اور بربط اور ستار اور دف اور جھانجھ اور ترہی بجاتے چلے آتے تھے۔
لیکن یہاں ایک بات پر غور کریں۔ یہاں ایک بات کی کمی ہے کیونکہ اس حوالہ میں کہیں نہیں بتایا گیا کہ داؤد نےخداوند سے اجازت طلب کی ہو یا کسی سردار کاہن سے رہنمائی لی ہو۔ اس معاملہ کی بنیاد ہی غلط اُٹھائی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید بگڑتا چلا گیا۔
گنتی کی کتاب میں خدا نے تین مرتبہ واضح طور پر بتایا ہے کہ صندوق کو کیسے اٹھایا جائے۔ یہ اس لیے اہم تھا کہ عہد کا صندوق اُس کے تخت اور اپنے لوگوں میں حضوری کی علامت تھا۔ زبور 1:99 بیان کرتی ہے، خداوند سلطنت کرتا ہے۔ قومیں کانپیں۔ وہ کروبیوں (عہد کے صندوق پر) پر بیٹھتا ہے۔ زمین لرزے۔ داؤد اور سب لوگوں نے اِس سے متعلق خدا کے احکامات کو نظر انداز کر دِیا۔ اس کام کا آغاز ہی غلط طریقے سے ہوا تھا۔
خدا کی ہدایات یہ تھیں؛ اوّل، عہد کے صندوق کو صرف قہاتی جو لاوی کے خاندان سے تھے، اُٹھائیں۔ بائبل مقدس میں کہیں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ عزا اور اخیو جو گاڑی کو ہانک رہے تھے، قہاتی تھے اور لاوی کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دوسری بات، خدا نے حکم دیا تھا کہ صندوق کے چاروں پایوں پر کڑے لگے ہوں اور صندوق کے اطراف کے کڑوں میں چوبوں کو ڈالنا کہ اُن کے سہارے صندوق اُٹھ جائے۔ قہاتی اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھاتے تھے۔ لیکن داؤد نے کیا کیا؟ و ہ صندوق کو بیل گاڑی پر رکھ کر لائے۔ خدا نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ صندوق ڈھانپا ہوا ہو۔ لیکن اس جلوس میں صندوق سب کے سامنے بالکل بے پردہ تھا۔
اور پھر ، ہم گنتی 15:4 میں پڑھتے ہیں کہ وہ مقدس کو نہ چھوئیں تا نہ ہو کہ وہ مر جائیں۔ جب بیل یروشلیم میں داخل ہوئے تو اُن بیلوں نے ٹھوکر کھائی۔ گاڑی ہل گئی اور عزہ کو لگا کہ صندوق گرنے والا ہے۔ اس نے اسے تھامنے کو اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ تب خداوند کا قہر عزا پر بھڑکا اور اُس نے اُس کو مار ڈالا اِس لئے کہ اُس نے اپنا ہاتھ صندوق پر بڑھایا تھا اور وہ وہیں خدا کے حضور مر گیا۔
ایسا کیوں؟ وہ تو صرف مدد کرنا چاہتا تھا؟ نہیں۔ عزہ خدا کی قدّوسیت کو بھول گیا جس کی نمائندگی عہد کا صندوق کرتا تھا۔ وہ اس بات پر تو فکرمند تھا کہ کہیں زمین کی مٹی صندوق کو نہ چھو لے مگر یہ بھول گیا کہ اس کے اپنے ہاتھ اُس کے گناہوں کے سبب زمین سے بھی زیادہ ناپاک تھے۔ ایک قدوّس خدا کے سامنے، جو ہر لحاظ سے کامل اور پاک ہے، یہ حرکت ہولناک بغاوت تھی۔
ہم زبور 3:99 میں پڑھتے ہیں، وہ تیرے بزرگ اور مہیب نام کی تعریف کریں۔ وہ قدّوس ہے۔ اس دن جو کچھ ہوا ، خدا کے کلام مقدس کے مطابق نہیں تھا اِس لئے یہ جلوس اور جشن خدا کی حقیقی عبادت نہیں تھا۔ یہ لوگوں کا اپنا بنایا ہوا عبادتی طریقہ کار تھا۔ تم خداوند ہمارے خدا کی تمجید کرو۔ اور اُس کے پاؤں کی چوکی پر سجدہ کرو۔ وہ قدّوس ہے (آیت 5)۔ خدا کی قدّوسیت واضح کرتی ہے کہ ہمیں کیسے اُس کی عبادت کرنی چاہیے۔
بائبل مقدس میں صرف ایک صفت ایسی ہے جو ایک ہی حوالے میں تین بار دہرائی گئی ہے اور وہ ہے خدا کی قدّوسیت ۔ جب کوئی صفت تین بار دہرائی جائے تو یہ انتہائی اہم بات پر زور دیتی ہے۔ یسعیاہ 3:6 اور مکاشفہ 8:4 پڑھیں، وہ بھی اِسی صفت کو بیان کرتی ہیں۔ یہ آیات بیان کرتی ہیں کہ خداوند صیون میں بزرگ ہے اور وہ سب قوموں پر بلندوبالا ہے (زبور 2:99)۔ ہر عبادت سے پہلے اور حتیٰ کہ ایک رات پہلے عبادت کی تیاری کے دوران میں بھی، خدا کی قدوسیت کو یاد رکھیں۔ تم خداوند ہمارے خدا کی تمجید کرو اور اُس کے مقدس پہاڑ پر سجدہ کرو۔ کیونکہ خداوند ہمارا خدا قدّوس ہے (آیت 9)۔
آئیں، مل کر زبور 99 گائیں؛
یہواہ راج آپ کردا ہے کل لوک مناون ڈر
اوہ کروبیم تے بیٹھا ہے کمبے زمین تھر تھر
صیحون وِچ ہے بزرگ خدا بلند سب قوماں تے
اوہ پاک ناں وڈے تیرے دِی ستائش کرن گے
اردو زبان میں ترجمہ شدہ مضامین اور کتابیں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

