Menu Close

گیارھواں دِن: پاک اور ناپاک غیرت / Holy and Unholy Zeal

      

یسوع کون ہے؟

یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)

مصنفہ: ایبی وین سولکیما

مترجم: سنیل سموئیل

گیارھواں دِن: پاک اور ناپاک غیرت

یہودیوں کی عید فسح نزدیک تھی اور یسوع یروشلیم کو گیا۔ اُس نے ہیکل میں بیل او ر بھیڑ اور کبوتر بیچنے والوں کو صرافوں کو بیٹھے پایا۔ اور رسیوں کا کوڑا بنا کر سب کو یعنی بھیڑوں اور بیلوں کو ہیکل سے نکال دیا اور صرافوں کی نقدی بکھیردی اور اُن کے تختے اُلٹ دِئے ۔ اور کبوتر فروشوں سے کہا اِن کو یہاں سے لے جاؤ۔ میرے باپ کے گھر کو تجارت کا گھر نہ بناؤ ۔ اُ س کے شاگردوں کو یاد آیا کہ لکھا ہے۔ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا جائے گی (یوحنا 2: 13- 17)۔

بارہ برس سے زائد عمر کے تمام یہودی مردوں پر لازم تھا کہ وہ یروشلیم میں ہر سال ہونے والی فسح میں شریک ہوں۔اُس ہفتے یروشلیم اور ہیکل خاص طور پر مسافروں سے بھری ہوتی تھی۔تاجر اورصراف ہیکل کے بیرونی صحن میں اپنی دکانیں لگاتے تھے جہاں وہ قربانی کے جانور فروخت اور سکے تبدیل کرتے تھے۔انہیں معلوم تھا کہ بیرونی علاقوں سے آنے والے لوگوں کو قربانیاں گزراننےکے لئے جانور اور ہیکل کے لئے محصول درکار ہوں گے۔

دیکھنے میں یہ سب معقول لگتا ہے مگر یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہیکل کا بیرونی صحن دراصل وہ جگہ تھی جہاں غیر اقوام آکر عبادت کر سکتے تھے۔ خد انے یہ جگہ خاص پر عبادت کے لئے مخصوص کی تھی۔ لیکن ہیکل کا یہ حصہ شوروغل اورلین دین کی جگہ میں تبدیل کر دِیا گیا تھا۔جب یسوع نے اپنے باپ کے گھر کے اس غلط استعمال کو دیکھا تو اُس نے پوری شدت کے ساتھ قدم اٹھایا۔ اُس نے رسیوں کا ایک کوڑا بنایا اور اُن تاجروں اور اُن کے سامان کو ہیکل سے باہر نکال دیا۔

انسان ہوتے ہوئے یسوع پوری طرح جذباتی ہوا۔ مگر اُس کے جذبات ہمارے جذبات کی طرح گناہ آلودہ نہ تھے ۔اُس کا یہ شدید غصہ گناہ آلود نہ تھا کیونکہ یہ اُس کے باپ کے جلال کے لیے راست عقیدت سے پیدا ہوا تھا۔

یسوع اپنے باپ کے گھر کی پاکیزگی اور سچے خدا کی عبادت کے لیے غیرت رکھتا تھا۔جب یسوع نے اِس پاک جذباتی شدت کا اظہار کیا تو اُس کے شاگردوں کو اُس وقت داؤد نبی کی غیرت یاد آگئی جو وہ خدا کی عبادت اور اُس کے گھر کی تعمیر کی خواہش کے لئے رکھتا تھا۔ اُن کو داؤد کے الفاظ یاد آئے کیونکہ تیرے گھر کی غیرت نے مجھے کھا گئی (زبور 9:69)۔

جذبہ شوق سے سرشار ہونا اچھی بات ہے۔ یہاں تک کہ شدید جذبات رکھنا جیسے غصہ یا غیرت اور ان سے ہونے والے کام پاک ہو سکتے ہیں اگر وہ خدا کے لئے ہوں۔آپ دوسروں کی مدد کے لیے پُرجوش ہو سکتے ہیں، گناہ پر غصہ کر سکتے ہیں اور خدا کے جلال کے لیے غیور ہو سکتے ہیں۔لیکن اکثر جب آپ شدید جذبات محسوس کرتے ہیں تو کیا یہ دراصل آپ کے مجروح غرور اور خود پسندی سے پیدا نہیں ہوتے؟

شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ

١۔ آخری بار کب آپ میں کسی شدید جذبہ مثلاً غصہ یا غیرت کا احساس پیدا ہوا تھا؟

٢۔ کیا وہ جذبہ خدا سے محبت کے لئے پیداہوا تھا یا خود سے محبت کے لئے ؟اور کیا وہ جذبہ کسی اچھے کام کا باعث تھا یا کسی برے کام کا؟

اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت

١۔ خداوند کا شکر ادا کریں کہ اُس نے آپ کوجذبات جیسی اچھی نعمت بخشی۔

٢۔ اُس وقت کا اقرار کریں جب آپ خودغرضی کے جذبات کے باعث گناہ میں گر گئے۔

٣۔ روح القدس سے مددکے لئے درخواست کریں کہ وہ آپ کے دِل میں ایسی غیرت پیدا کرے جو ذاتی جلا ل کی بجائے خدا کے جلال کے لئے ہو۔

اردو زبان میں ترجمہ شدہ مضامین اور کتابیں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Show Buttons
Hide Buttons