Menu Close

اٹھائیسواں دِن: زِندگی کا کلام / Words of Life

     

یسوع کون ہے؟

یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)

مصنفہ: ایبی وین سولکیما

مترجم: سنیل سموئیل

اٹھائیسواں دِن: زِندگی کا کلام

پس وہ پھر قانایِ گلیل میں آیا جہاں اُس نے پانی کو مے بنایا تھا اور بادشاہ کا ایک ملازم تھا جس کا بیٹا کفرنحوم میں بیمار تھا۔ وہ یہ سن کر کہ یسوع یہودیہ سے گلیل میں آ گیا ہے اُس کے پاس گیا اور اُس سے درخواست کرنے لگا کہ چل کر میرے بیٹے کو شفا بخش کیونکہ وہ مرنے کو تھا۔ یسوع نے اُس سے کہا جب تک تم نشان اور عجیب کام نہ دیکھو ہر گز ایمان نہ لاؤ گے۔بادشاہ کے ملازم نے اُس سے کہا اے خداوند میرے بچہ کے مرنے سے پہلے چل ۔ یسوع نے اُس سے کہا جا تیرا بیٹا جیتا ہے۔ اُس شخص نے اُس بات کا یقین کیا جو یسوع نے اُس سے کہی اور چلا گیا۔ وہ راستہ ہی میں تھا کہ اُس کے نوکر اُسے ملے اور کہنے لگے کہ تیرا بیٹا جیتا ہے۔ اُس نے اُن سے پوچھا کہ اُسے کس وقت سے آرام ہونے لگا تھا؟ اُنہوں نے کہا کہ کل ساتویں گھنٹے میں اُس کی تپ اُتر گئی۔ پس باپ جان گیا کہ وہی وقت تھا جب یسوع نے اُس سے کہا تھا تیرا بیٹا جیتا ہے اور وہ خود اور اُس کاسارا گھرانا ایمان لایا۔ یہ دوسرا معجزہ ہے جو یسوع نے یہودیہ سے گلیل میں آ کر دِکھایا (یوحنا 46:4-54)۔

قانا میں یسوع کے پاس آنے والے امیر شخص کاآغازمیں رویہ اس کے ہم وطن گلیلیوں کی طرح محسوس ہوتا تھا جن کے بارے میں آپ نے گذشتہ باب میں پڑھا تھا۔ اُس نے یسوع کے بڑے معجزات کے بارے میں سنا اور اپنا مسئلہ لے کر اُس کے پاس آیا۔ اُس امیر شخص کابیٹا بیمار تھا اور قریب المرگ تھا اور وہ بضد تھا کہ یسوع اُس کے گھر آئے اور اُس کے بیٹے کو شفا دے۔

یسوع نے ابتدا میں اُس امیر شخص کے ایمان کی آزمائش کے لیے اُسے سرزنش کی لیکن وہ ثابت قدم رہا۔ اُس نے دوبارہ یسوع سے اپنی بیٹے کی شفا کے لیے التجا کی کیونکہ اُس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ یسوع نے اُس کی درخواست قبول کی اور کہا کہ اُس کا بیٹا شفا پا گیا ہے اور وہ اب جا سکتا ہے۔

اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص یسوع پر بہت مضبوط ایمان رکھتا تھا۔ پہلی بات ، قانا اور کفر نحوم کے درمیان سولہ میل کا فاصلہ تھا۔ دوسری بات، وہ یہ معلوم نہ کرسکتاتھا کہ اس کا بیٹا شفا پا گیا ہو گاجب تک کہ وہ اگلے دِن گھر پہنچے۔ پھر بھی اُس آدمی نے یسوع کی بات کا یقین کیا اور اپنا راستہ اختیار کیا۔ ہم پڑھتے ہیں کہ نہ صرف وہ خود بلکہ اُس کا سارا گھرانا اِیمان لایا۔

یہ دوسرا بڑا معجزہ ہے (سات میں سے) جن کو یوحنا نے اپنی انجیل میں درج کیا۔ یہ یسوع کی الوہیت کاایک اور ثبوت بھی ہے۔ صرف وہی جو حقیقی خدا تھا ایسا معجزہ کر سکتا تھا۔ یہ معجزہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع زِندگی اور موت دونوں پر اختیار رکھتا ہے۔ امیر شخص کے بیٹے کی شفا ایک علامتی تصویر ہے کہ یسوع اپنے ہر ایک پیروکار کے لیے کیا کرتا ہے۔ اُس کا کلام زِندگی اور نجات دونوں پیش کرتا ہے۔

فطری طور پر، ہم سب اپنے قصوروں اور گناہوں کے سبب مردہ تھے اور ہمارے پاس کوئی اُمید نہیں تھی کہ ہم بحال کئے جائیں گے (افسیوں 1:2)۔ لیکن خدا نے اپنی عظیم شفقت سے ہماری شدید ضرورت کے لئے زندگی بخش قدرت کے ساتھ آ کر ہماری مدد کی۔ اُس نے ہمارے دِل میں حقیقی ایمان پیدا کیا تاکہ ہم اپنے گناہ سے واقف ہوں اور اپنے نجات دہندہ پر بھروسہ رکھیں اُسی پر جس نے ہماری بیماری اور مصیبت اپنے اُوپر لے لی اور ہماری جگہ دُکھ سہا تاکہ ہم شفا پائیں (یسعیاہ 4:53، 1 پطرس 24:2)۔

شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ

١۔ یہ کیوں ضروری ہے کہ تمام ایماندار حتیٰ کہ پختہ ایمان والے بھی اپنے گناہ اور نجات دہندہ کی عظیم ضرورت کے متعلق یاد رکھیں؟

٢۔ خدا نے آپ کو یہ یاد رکھنے کے لئے کون سے ذرائع دیے ہیں؟

اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت

١۔ اپنے گناہ کا اقرار کریں اور اِس بات کا کہ آپ کو نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔

٢۔ خداوند کی عظیم شفقت کے لیے اُس کی تمجید کریں۔

٣۔ خدا کا شکر ادا کریں کہ اُس نے آپ کو نئی زندگی بخشی۔

اردو زبان میں ترجمہ شدہ مضامین اور کتابیں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Show Buttons
Hide Buttons