مسیحی زِندگی
مصنف: جان کالون
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
پہلا باب: پاکیزگی کی ترغیب دینے والے بائبلی دلائل
مسیحی زندگی اور نئی پیدایش و توبہ کے درمیان تعلق
١. مسیحی زندگی جس کا آغاز نئی پیدایش سے ہوتا ہے، ایک بڑا اور وسیع مضمون ہے۔
نئی پیدایش کا مقصد یہ ہے کہ ایمان داروں کی زندگی خدا کی راست بازی کے ساتھ ہم آہنگ اور موافق ہو اور اس بات کی توثیق ہو کہ خدا نے انہیں اپنے فرزند کے طور پر قبول کر لیا ہے۔
لیکن اگرچہ شریعت اپنے اندر اِس نئی زندگی کو سموئے ہوئے ہے جس کے ذریعے ہم میں خدا کی صورت و شبیہ بحال کی جاتی ہے تاہم، پھر بھی ہماری سستی کو مدد اور ترغیب دونوں کی شدید ضرورت ہوتی ہے، اس لیے یہ مفید ہوگا کہ بائبل مقدس سے اس اصلاح کا ایک درست اور منظم بیان جمع کیا جائے تاکہ وہ لوگ جو سنجیدگی سے توبہ کی خواہش رکھتے ہیں، اپنے جوش میں بھٹک نہ جائیں۔
مزید یہ کہ میں اس بات سے غافل نہیں ہوں کہ مسیحی زندگی کی وضاحت کا بیڑا اٹھاتے ہوئے میں ایک ایسے موضوع میں داخل ہو رہا ہوں جو نہایت وسیع ہے۔ اگر اس کے ہر پہلو پر تفصیل سے بات کی جائے تو ایک بڑی کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہم یہ بات کلیسیائی بزرگوں کی تحریروں میں دیکھتے ہیں جنہوں نے ایک ایک خوبی پر گفتگو کرتے ہوئے طویل نصائح لکھے۔ انہوں نے ایسا طویل کلامی کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اس لیے کہ ہر خوبی پر بات کرنے کے لیے مواد بہت زیادہ ہوتا ہے اور اگر تفصیل بیان نہ کی جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے بات مکمل ہی نہیں ہوئی۔
لیکن اس موضوع پر تعلیم کے ذریعے میرا مقصد یہ نہیں کہ ہر خوبی کو الگ الگ بیان کروں اور طویل نصائح پیش کروں۔ یہ کام دوسرے مصنفین کی تحریروں میں بالخصوص کلیسیائی بزرگوں کے وعظوں میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہو گا کہ میں اُس طریقے کی نشان دہی کر دوں جس کے ذریعے ایک دِیندار شخص کو یہ سکھایا جا سکے کہ وہ اپنی زندگی درست طور پر کیسے سنوارے یا منظم کرے اور مختصراً ایک ایسا عمومی اصول بیان کر دوں جس کے مطابق وہ اپنے فرائض کا اچھی طرح جائزہ لے سکے۔ ممکن ہے کسی دن مجھے تفصیل سے لکھنے کا موقع مل جائے یا میں یہ کام ایسے لوگوں پر چھوڑ دوں جو اس کے لیے مجھ سے زیادہ بہتر ہوں۔ مجھے اختصار پسند ہے اور ممکن ہے کہ اس پر زیادہ تفصیل سے بات کرنے میں میں کامیاب بھی نہ ہو سکوں۔ اگرچہ لمبی تحریر سےداد بھی مل سکتی ہے پھر بھی میں اس کی خواہش نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ، میرے موجودہ کام کی نوعیت بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ جس قدر ممکن ہو، بنیادی تعلیم کو مختصر انداز میں پیش کیا جائے۔
جس طرح فلسفی ایمانداری اور دیانت داری کی تعریفیں بیان کرتے ہیں اور انہی سے خاص فرائض اور خوبیوں کا پورا نظام قائم کرتے ہیں۔ اِسی طرح بائبل مقدس بھی بے ترتیب نہیں ہے بلکہ ایک نہایت خوبصورت نظام پیش کرتی ہے جو فلسفیوں کے نظام سے کہیں زیادہ یقینی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسفی اکثر لوگوں میں مقبول ہونے کے شوق میں اپنی بات کو بہت نفیس اور پیچیدہ انداز میں پیش کرتے ہیں تاکہ اپنی ذہانت کا اظہار کر سکیں۔ اس کے برعکس، روح القدس سادگی کے ساتھ تعلیم دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ ترتیب کا پابند نہیں ہوتا لیکن بعض اوقات اِس کے ذریعے بخوبی ظاہر کر دیتا ہے کہ اسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
٢۔ لازم ہے کہ ہم پاک ہوں کیونکہ خدا پاک ہے اور ہمارے درمیان رہتا ہے۔
جس بائبلی طریقہ کی ہم بات کر رہے ہیں اس کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔پہلا مقصد راست بازی سے محبت ہے جس کی طرف ہم فطری طور پر مائل نہیں ہوتے، ہمارے دِل و دماغ میں ڈال دی جائے اور مضبوط کی جائے۔ دوسری یہ ہے (دیکھیں باب 2) کہ ایک ایسا اصول مقرر کیا جائے جو ہمیں راست بازی کی تلاش میں گمراہ ہونے سے بچائے۔ اس میں راست بازی کی ترغیب دینے کے کئی قابل تعریف طریقے ہیں۔ اِن میں سے بہت سے طریقے اس کتاب کے مختلف حصوں میں پہلے ہی بیان کئے جا چکے ہیں لیکن ہم یہاں بھی اُن میں سے کچھ کا مختصر ذکر کریں گے۔ اس کا آغاز کس بہتر بنیاد پر ہوسکتا ہے، اِس بات کی یاد دہانی سے کہ لازم ہے کہ ہم پاک ہوں کیونکہ خدا پاک ہے (احبار 1:19، 1 پطرس 16:1)؟ جب ہم کھوئی ہوئی بھیڑ کی طرح پراگندہ تھے اور دنیا کی بھول بھلیاں میں بھٹک رہے تھے، خدا ہمیں دوبارہ اپنے گلہ میں واپس لے آیا۔
جب خدا کے ساتھ ہمارے متحد ہونے کی بات کی جائے تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکیزگی ہمارے اس اتحاد کا بندھن ہونی چاہیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم پاکیزگی کی اہلیت کی بدولت اُس کے ساتھ تعلق قائم کرتے ہیں۔بلکہ اِس کے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے اُسی سے جڑیں تاکہ اس کی پاکیزگی سے معمور ہو کر ہم اس کے بلاوے کے مطابق چل سکیں۔ضرور ہے کہ پاکیزگی ہماری یگانگت کابندھن ہو کیونکہ یہ اس کے جلال کے لیے بہت اہم ہے کہ وہ برائی اور ناپاکی کے ساتھ کسی تعلق میں نہ ہو۔ اِس لیے وہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہی ہمارے بلائے جانے کا مقصد ہے اور اِسے ہی ہمیشہ ہمیں ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے اگر ہم خدا کے بلاوے کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں اس دنیا کی بدکاری اور نجاست سے بچایا گیا جس میں ہم ڈوب چکے تھے تو آخر کس مقصد کے لیے، اگر ہم اپنی پوری زندگی انہی میں ڈوبے رہیں؟
مزید برآں، اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ہمارا شمار خداوند کی قوم کے طور پر کیا جائے تو ہمیں مقدس شہر یروشلیم میں رہنا چاہیے جو خدا نے اپنے لیے مقدس کیا ہے اور اُس کے باشندوں کے لئے یہ ناپسندیدہ ہوگا کہ وہ اُسے نجاست سے ناپاک کریں ۔ اِس لئے اِسے اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟ تیرے کوہِ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا ہے (زبور 1:15–2 اور 3:24–4)۔ کیونکہ وہ مقدس مقام جہاں خدا رہتا ہے، یقیناً جانوروں کے طویلے کی طرح ایک ناپاک جگہ نہیں ہو سکتی۔
اردو زبان میں ترجمہ شدہ مضامین اور کتابیں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

