Menu Close

بیسواں دِن: خدا سچاّ ہے / God Is True

     

یسوع کون ہے؟

یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)

مصنفہ: ایبی وین سولکیما

مترجم: سنیل سموئیل

بیسواں دِن: خدا سچاّ ہے

جو اُوپر سے آتا ہے وہ سب سے اُوپر ہے۔ جو زمین سے ہے وہ زمین ہی سے ہے اور زمین ہی کی کہتا ہے۔ جو آسمان سے آتا ہے وہ سب سے اُوپر ہے۔ جو کچھ اُس نے دیکھا اور سنا اُسی کی گواہی دیتا ہے اور کوئی اُس کی گواہی قبول نہیں کرتا۔ جس نے اُس کی گواہی قبول کی اُس نے اِس بات پر مہر کر دی کہ خدا سچاّ ہے۔ کیونکہ جسے خدا نے بھیجا وہ خدا کی باتیں کہتاہے۔ اس لئے کہ وہ روح ناپ ناپ کرنہیں دیتا۔ باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے اوراُس نے سب چیزیں اُس کے ہاتھ میں دے دِی ہیں۔ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے لیکن جو بیٹے کی نہیں مانتا زندگی کو نہ دیکھے گا بلکہ اُس پر خد اکا غضب رہتا ہے (یوحنا 31:3-36)۔

یسوع اُن تمام نبیوں سے بڑاتھا جو اُس سے پہلے آئے تھے بشمول یوحنا بپتسمہ دینے والے کے۔ چونکہ وہ آسمان سے آیا تھا، اُسے خدا کی باتوں کا براہِ راست علم تھا۔ پہلے کے تمام نبی الہام کے ذریعے ہی خدا کو جانتے تھے لیکن یسوع کا اپنے باپ کے ساتھ ذاتی اور محبت بھرا رشتہ تھا۔ پرانے عہد نامے کے نبیوں کو روح القدّس کاکسی حد تک تجربہ تھا لیکن خدا کے بیٹے کے طور پر یسوع کے اندرروح القدّس کی مکمل معموری تھی۔ اُس کے الفاظ دراصل خدا کے الفاظ تھے۔

یسوع کی الوہیت اور اختیار کے ثبوت ناقابلِ انکار ہیں۔ پھر بھی جیسا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے بتایا، بڑی بھیڑ میں سے صرف چند ہی لوگ ایمان لائے اور باقی سب نے یسوع کی تعلیم کو ردّ کر دیا۔ یسوع کا وہ پیغام جو وہ آسمان سے لایا تھا، اگر کوئی اُسے ردّ کرتا ہے تو وہ دراصل خدا کو جھوٹا کہتا ہے۔ یوحنا رسول نے 1 یوحنا 10:5 میں لکھا، جو خد اکے بیٹے پرایمان رکھتا وہ اپنے آپ میں گواہی رکھتا ہے۔جس نے خدا کا یقین نہیں کیا اُس نے اُسے جھوٹا ٹھہرایا کیونکہ وہ اُس گواہی پر جو خدا نے اپنے بیٹے کے حق میں دی ہے ایمان نہیں لایا۔

بے اعتقادی کی سزا بہت سنگین ہے۔ جو لوگ یسوع کی گواہی کو ردّ کرتے ہیں وہ خدا کے قہر اور غضب کاتجربہ کرتے ہیں۔ نہ صرف ایک بار بلکہ ہمیشہ کے لیے۔ آیت36میں لکھا ہے کہ خدا کا غضب رہتا ہے یعنی وہ اُن پر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ جو لوگ یسوع پر ایمان نہیں لاتے وہ آسمان کی ہمیشہ کی زندگی حاصل نہیں کریں گے اور وہ اُس بابرکت زندگی کا کوئی ابتدائی تجربہ اس دنیا میں بھی نہیں کرپائیں گے۔ یسوع کی سچاّئی پر ایمان لانا درحقیقت زندگی اور موت کا سوال ہے۔

یہی سنگین نتائج اُن کے لئے واقع ہوتے ہیں جو خدا کے بیٹے پر ایمان نہیں لاتے جن کے بارے میں کلامِ مقدس میں بتایا گیا ہے۔ یہ بے اعتقادی کبھی صاف انکار کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی زیادہ مکا رانہ انداز میں جیسے کہ خدا کے کلام کے کچھ حصوں پر بحث کرنا، خدا کے کردار پر شک کرنایا اُن وعدوں پر بھروسہ نہ کرنا جو خدا نے مسیح میں کیے ہیں۔ کلامِ مقدس کی کسی بھی سچاّئی کا انکار درحقیقت خدا کو جھوٹا ٹھہرانا ہے۔

شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ

١۔ کیا کلامِ مقدس کا کوئی حصہ ایسا ہے جس کے بارے میں آپ کے ذہن میں سوالات ہوں یا جس پر آپ شک کرنے کی آزمائش میں پڑے ؟ اپنے یہ سوالات اور شک تحریر کر لیں تاکہ آپ ان کے بارے میں اپنے والدین، بزرگ یا پاسبان کے ساتھ گفت گو کر سکیں۔

اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت

١۔ خداوند کا شکر کریں کہ وہ سچاّ اور عادل ہے۔

٢۔ اپنے آسمانی باپ کا شکر کریں کہ اُس نے اپنے لاخطا کلام کی سچاّئی آپ پر ظاہر کی۔

٣۔ مرقس 24:9 کو دہراتے ہوئے درخواست کریں، میں اعتقاد رکھتا ہوں ۔تو میری بے اعتقادی کا علاج کر۔

اردو زبان میں ترجمہ شدہ مضامین اور کتابیں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Show Buttons
Hide Buttons