یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
پانچواں دِن: بیابان میں ایک راہ
اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلیم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اُس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے؟ تو اُس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں ۔ انہوں نے اُس سے پوچھا پھر کون ہے؟ کیا تو ایلیاہ ہے؟ اُس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ نہیں۔ پس انہوں نے اُس سے کہا پھر تو ہے کون؟ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں۔ تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟ اُ س نے کہا میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو (یوحنا 19:1-23)۔
یوحنا بپتسمہ دینے والے کی خدمت سے پیشتر، تقریباً چار سو سالوں تک خدا خاموش رہا۔پرانے اور نئے عہد نامے کے درمیانی عرصے میں کوئی نیا نبی برپا نہیں ہوا۔ملاکی کے بعد سے خدا کی طرف سے کوئی کلام نازل نہیں ہوا۔
ممکن ہے کہ بہت سے لوگ یہ سوچتے تھے کہ خدا اُنہیں بھول گیا ہے۔رومی اسرائیل پر حکومت کرتے تھے اور داؤد کی نسل سے کوئی بھی تخت پر بیٹھنے والا موجود نہیں تھا۔اسرائیل کی کلیسیا کا روحانی منظر ایک بنجر بیابان جیسا تھا خشک اور نااُمیدی پر مشتمل۔
اِسی اُداس منظر میں یوحنا بپتسمہ دینے والے کی آمد ہوئی۔اُس نے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے توبہ کرنے اور بپتسمہ لینے کی دعوت دی تاکہ وہ اپنے دِلوں کو نجات دہندہ کو قبول کرنے کے لیے تیار کریں۔اُسے اِسی روحانی بنجر بیابا ن میں یسوع کی آمد کی راہ تیار کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔
چونکہ اتنے سالوں سے خدا نے کوئی نبی نہیں بھیجا تھا اِس لئے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی انتہائی خالص خدمت اور برجستہ منادی نے یہودی رہنماؤں کی توجہ حاصل کی۔انہوں نے کاہنوں اور لاویوں کا ایک گروہ اُس کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُسے پوچھیں کہ تو کون ہے؟ یوحنا نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ وہ موعودہ مسیح نہیں ہے جس کے وہ منتظر ہیں۔
پھر وہ ملاکی نبی کی نبوت (ملاکی 5:4) کو یاد کر کے پوچھنے لگے کہ کہیں تو ایلیا ہ نبی تو نہیں۔ یوحنا نے جواب دیا، میں نہیں ہوں۔پھر وہ استثنا 18:18 کے وعدے کو یاد کرتے ہوئے پوچھنے لگے کہ کیا تو وہ نبی (جس کا ذکر موسیٰ نے کیا) ہے۔یوحنا نے پھر جواب دیا کہ نہیں۔
اُن کے سوال کا جواب دینے کے لیے، یوحنا نے ایک اور پرانے عہد نامے کے نبی یسعیاہ کی طرف اشارہ کیا۔اُس نے یسعیاہ3:40 کا حوالہ دیتے ہوئے اُن کو بتایا (آیت 23) کہ وہ بس خدا کا بھیجا ہوا پیغامبر ہے تاکہ جس مسیح موعود کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا ہے اُس کی راہ تیار کرے۔اگرچہ خدا اِتنے برسوں تک خاموش رہا پھر بھی اس نے اپنے لوگوں کو ترک نہیں کیا۔وہ ان تمام واقعات کو اپنے بیٹے کو بھیجنے کے لئے استعمال کر رہا تھا تاکہ وہ آ کر اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے۔
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ آپ اس بات پر کیسے غور کرتے ہیں کہ خدا آپ کے ارد گرد یسوع کی دوسری آمد کی تیاری کے لئے اِس دنیا میں کام کر رہا ہے؟
٢۔ آپ مسیح یسوع کی دوسری آمد کی تیاری کے لیے کس طرح بلائے گئے ہیں؟ آپ اِس پہلو میں کیسے بہتری لا سکتے ہیں؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ اپنے دِل کے روحانی بیابان میں خدا کے پرفضل کام کے لیے اُس کی تمجید کریں۔
٢۔ فضل کے لئے دعا کریں تاکہ آپ یسوع کی دوسری آمد کےلئے ہوشیاری کے ساتھ اپنی زندگی گذار سکیں۔
٣۔ شکر ادا کریں یسوع کے اُس کام کے لیے جو وہ مسلسل بطور نبی، کاہن اور بادشاہ آسمان میں ہمارے لیے کر رہا ہے۔
اردو زبان میں ترجمہ شدہ مضامین اور کتابیں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

